موزمبیق میں داعش کے حملے کے بعد سڑکوں پر لاشوں کا ڈھیر، غیر ملکی بھی 3 روز سے محصور

فوٹو: فائل

افریقی ملک موزمبیق میں عالمی شدت پسند تنظیم داعش اور  سکیورٹی فورسز کے درمیان تین روز  سے مقابلہ جاری ہے اور  ہلاک افراد کی لاشیں سڑکوں اور گلیوں میں بے یار و مددگار  پڑی ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق داعش نے تین روز قبل موزمبیق کے شمالی علاقے پالما میں ایل این جی کی سائٹ کے قریب حملہ کیا، شدت پسند تنظیم کے حملے کے باعث 180 سے زائد افراد 3 دن سے ہوٹل میں محصور ہیں، محصور افراد میں غیر ملکی ورکرز  بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ پالما میں فرانسیسی تیل کمپنی سمیت 6 دیگر انٹرنیشنل فرمز موجود ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے باعث متعدد افراد ہلاک ہوئے، کئی لاشیں سڑکوں پر پڑی ہیں جس میں سے زیادہ تر کے سر تن سے جدا ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہوٹل میں محصور افراد کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔

رپورٹس کے مطابق داعش کے حملے کے بعد کئی شہریوں نے قریبی جنگل میں پناہ لے رکھی ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک اور  زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں ابھی کچھ معلوم نہیں ہے، داعش سے مقابلے کے لیے فوج کو بھیج رہے ہیں۔



#موزمبیق #میں #داعش #کے #حملے #کے #بعد #سڑکوں #پر #لاشوں #کا #ڈھیر #غیر #ملکی #بھی #روز #سے #محصور

Source link

Pin It on Pinterest