مادہ جانوروں کے مذبحہ سے ملک میں گوشت کی کمی کے خطرات منڈلانے لگے

مادہ جانوروں کو اسی شرح سے ذبح کیا جاتا رہا تو ملک میں قربانی کیلئے بھی جانور نہیں رہیں گے، ڈاکٹر مقبول احمد— فوٹو:فائل 

مادہ جانوروں کے مذبحہ سے ملک میں گوشت کی کمی کے خطرات منڈلانے لگے۔

اینیمل قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کے قرنطینہ افسر ڈاکٹر مقبول احمد نے خبردار کیا ہے کہ 6 ماہ تک کسی مادہ جانور کو ذبحہ نہیں کیا جانا چاہیے، اگراس عمل کونہ روکا گیا تو جانور بیرون ملک سے منگوانا پڑیں گے۔

جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مقبول احمد کا کہنا ہے کہ پنجاب میں مادہ جانوروں کے مذبحہ پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے، مادہ جانوروں کے مذبحہ پراینیمل ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ مادہ جانور ذبحہ کیے جانے پر اینیمل سرٹیفکیٹ واپس لے لیا جائے گا۔

ڈاکٹر مقبول احمدکے مطابق اس وقت چاروں صوبوں میں مادہ جانور کے مذبحہ پر مکمل پابندی کی ضرورت ہے، ملک میں مادہ جانور کے مذبحہ پر پابندی نہ لگی تو لائیو اسٹاک ختم ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مادہ جانوروں کو اسی شرح سے ذبح کیا جاتا رہا قربانی کیلئے بھی جانور نہیں رہیں گے۔



#مادہ #جانوروں #کے #مذبحہ #سے #ملک #میں #گوشت #کی #کمی #کے #خطرات #منڈلانے #لگے

Source link

Pin It on Pinterest