اپنے شوہر کی پینشن لینے کی اہل ہے چاہے وہ اپنے شوہر کو قتل ہی کیوں نہ کردے۔ بھارت

بھارتی ریاست پنجاب و ہریانہ کی عدالت عالیہ نے ایک غیر معمولی فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک خاتون اپنے شوہر کی پینشن لینے کی اہل ہے چاہے وہ اپنے شوہر کو قتل ہی کیوں نہ کردے۔ 

عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’کوئی بھی اس مرغی کو ذبح نہیں کرتا جو سونے کے انڈے دیتی ہو۔ ایک بیوی کو شوہر کی موت کے بعد اس کے اہلِ خانہ کو موصول ہونے والی پینشن سے نہیں روک سکتا۔‘ 

عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ ’پینشن ایک سوشل ویلفیئر اسکیم ہے جس کا آغاز اس لیے گیا گیا تاکہ کسی سرکاری ملازم کی موت ہوجائے تو اس کے اہلِ خانہ کی مالی مدد کی جاسکے۔‘

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ آنجہانی شوہر کی اہلیہ ہی اہلِ خانہ کی پینشن وصول کرنے کی حقدار ہے چاہے اس پر کوئی جرم ہی ثابت کیوں نہ ہوا ہو۔ 

واضح رہے کہ ہریانہ سے تعلق رکھنے والی بلجیت کور نامی خاتون نے عدالت میں موقف اپنایا تھا کہ ان کے شوہر ریاستی حکومت کے ملازم تھے جو 2008 میں انتقال کر گئے، اس کے بعد 2009 میں ان کی پینشن شروع ہوئی لیکن بعد ازاں 2011 میں خاتون پر ایک قتل کا جرم ثابت ہوا اور انھیں سزا ہوئی جس کے بعد ان کے اہلِ خانہ کے لیے آنے والی پینشن بھی روک دی گئی۔ 

تاہم اب عدالت نے ہریانہ حکومت کے احکامات کو مسترد کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کے اہلِ خانہ کی پینشن جاری کرنے اور ان کے بقایا جات بھی جاری کرنے کے احکامات جاری کیے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Pin It on Pinterest

%d bloggers like this: